Does Iqbal’s Poetry Reflect His Well Thought out Opinion? By F. Sheikh ( Brief Thought)

Although it is a continuation of the discussion on Noor Salik’s talk on Iqbal’s sixth lecture on November 29th, 2015, but I am posting it separately because I think it is a bit different subject.  

I think poetry is like a one liner islated thought and is not necessarily a well thought out comprehensive opinion. For example take the following verses;

Judda Ho Deen siyasaat se to……………………………

Jis khait se Kissan ko muyassir…………………………

These are so powerfully written inspirational one liner isolated thoughts that one spontaneously feels like clapping and rising up in praise, but reader has to complete this thought with one’s own imagination. It does not necessarily mean that the poet has the capability or has fully thought out opinion in detail as is required in prose. Although one is always curious to know more, but it is not fair either to ask the poet to express his thought in detail in prose or in speech even if that thought is related to religion or politics. The poet, like an artist, portrays only the snipes of circumstances with big gaps to be filled by the observer or reader’s own imagination.

The public at large, in awe by the power of Iqbal’s poetry, thought that he must have comprehensive opinions behind the one liner thought poetry, and pressed him to explain in detail his thoughts from religion to politics during uncertain times. Even though Iqbal was not an Islamic scholar and has ventured from Wahabbism to Sufism, he agreed to do so and the result was his six lectures on Reconstruction Of Islamic Thought. It was natural to have contradictions not just between his poetry, which represented snipes of thought without full picture, and speeches but also within the speech itself because he was not a scholar on the subject he was venturing into.  

How much importance one should give to six lectures of Iqbal? I think it depends on one’s personal motives and whether one looks at Iqbal more than a poet.        

Fayyaz Sheikh  

   

The Social Status of Women – Before Islam Part II

Shared by Iqbal Sheikh!

قبل از اسلام کے عربوں کی جاہلیت، بد تہذیبی ، برائی، بیوقوفی جہالت کی کہانیاں جھوٹ کے پلندے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ ان وقتوں کا مکّے کا سماجی ڈھانچہ ایک قبائلی طرز پر تھا، جس میں اپنے وقتوں کی خامیوں کے ساتھ خوبیاں بھی تھیں۔ جن میں مہمان نوازی، فیاضی، وفاداری اور میدان جنگ میں شجاعت کو اہم سمجھا جاتا تھا۔ عربوں کی شاعری اپنی عورتوں کی خوبصورتی، وقار اور اپنے قبیلے کی امن اور جنگ کی حالت میں اپنے قبیلے کی شجاعت اور اقدار سے متعلق ہوا کرتی تھی۔ شاعری پر صرف مردوں ہی کی اجارہ داری نہیں تھی، بلکہ عورتیں بھی شاعری کرتی تھیں۔

عصماء بنت مروان  اور فرزانہ

عصماء بنت  مروان ایک شاعرہ تھی۔ اس کا تعلق قبیلہ اوس کی شاخ بنو خطمہ سے تھا، وہ یزید بن زید بن حصن الخطیمی کی بیوی تھی۔ ان وقتوں میں مدینہ کی عورتیں سماجی طور پر کس قدر متحرک تھیں عصماء اس کی زریں مثال ہے۔عبداللہ بن خطل کی کنیز فرزانہ تھی۔ یہ دونوں  آپؐ کی ہجو لکھا کرتی تھیں۔ بدوی عرب معاشرے میں شاعروں کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ شاعر ات و شعراءاپنے قبیلے کی اجتماعی روح کے ترجمان کا کردار ادا کرتے تھے۔ اور ان کے ادا کردہ الفاظ بہت زیادہ تاثیر کے مالک ہوتے تھے۔ پسندیدہ یا ناپسندیدہ فعل اور کیفیت کا اظہار اشعار کی صورت میں کیا جاتا تھا، کسی بھی ناپسندیدہ شخصیت کی “ہجو” لکھنا بہت عام سی بات تھی۔ شاعروں کو اپنے وقتوں کے نقاد، صحافی یا تاریخ دان بھی کہا جا سکتا ہے۔ شاعری کی اسی قوت کی وجہ سے نبی کریم شاعری کو بہت ناپسند فرماتے تھے۔

“ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا، اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اشعار سے بھر جائے“۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث نمبر 6155

ہند بنت عتبہ ہند بنت عتبہ قریش کے سب سے بڑے سردار عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی تھی۔ ہند کی پہلی شادی فقیہ بن مغیرہ سے ہوئی، جس سے اس کا بیٹا ابان پیدا ہوا۔ فقیہ سے طلاق لے کر ہند نے ابو سفیان سے شادی کی۔ غزوہ بدر میں ہند کا باپ عتبہ، بھائی ولید، چچا شیبہ اور چچا زاد حنظلہ ہلاک ہوئے۔ ہند ان کے سوگ میں کئی دنوں تک صحراء میں اپنے منہ اور بالوں میں مٹی ڈالے بین کرتی رہی۔ تا آنکہ اس کے خاوند ابو سفیان نے اسے یقین نہ دلایا کہ وہ اس کے رشتہ داروں کے قتل کا بدلہ لے گا۔ اپنے شوہر کے وعدے کے باوجود ہند نے اپنے بدلے کی آگ ٹھنڈی کرنے کیلئے جبیر بن مطعم کے وحشی نامی غلام کی خدمات حاصل کیں۔

ان وقتوں میں جب بھی کوئی جنگ ہوتی تو قریش کی عورتیں اپنے مردوں کے ساتھ میدان میں جنگ میں جایا کرتی تھیں۔ میدان جنگ میں رجز گا کر حوصلہ بڑھانے، زخمیوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کرنے کے علاوہ عورتوں کی جنگ میں موجودگی کے پیچھے یہ سوچ کام کر رہی ہوتی تھی کہ ان کی موجودگی میں ان کے مرد دلیری سے لڑیں گے اور میدان سے نہیں بھاگیں گے۔ ہند غزوۂ احد میں ایک زخمی شیرنی کی طرح بے چینی سے گھوم رہی تھی۔ جب بھی وحشی کے پاس سے گزرتی تو اسے کہتی “اے ابو وسمہ تو میرا دل ٹھنڈا کر اور اپنا دل بھی ٹھنڈا کر“۔ جب جنگ شروع ہو گئی تو ہند اپنی ساتھی عورتوں کے ساتھ مردوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دف بجا کا یہ گانا شروع کر دیا۔

“ہم رات کو آنے والوں کی بیٹیاں ہیں، ہم لوگ تکئے پر چلتے ہیں۔ اگر آگے بڑھو گے تو ہم گلے لگائیں گی اور گدے بچھائیں گی، اگر منہ موڑو گے بغیر کسی خیال کے قطع تعلق کر دیں گی۔ اے بنو عبدالدار، اے پشت بچانے والو، شمشیر براں سے مارو“۔

وحشی بھالا پھینکنے کا بہت ماہر تھا، اس نے ایک درخت کی آڑ لے کر اپنا بھالا پھینکا جو حمزہ کے پیٹ کے پار ہو گیا۔ جونہی ہند نے یہ منظر دیکھا تو خوشی سے بے اختیار اپنا بازو بند، ہنسلی اور کان کی بالیاں اتار کر وحشی کو دے ڈالیں۔ اور ایکدم سے ایک چٹان پر چڑھ گئی اور رجز گانے شروع کر دیئے۔

“جنگ بدر کا بدلہ ہم نے چکا دیا، اور جنگ کے بعد جنگ بھڑکتی ہے۔ میں شیبہ، ولید، عتبہ اور بکر کے قتل پر صبر نہ کر سکی۔ میں نے اپنے دل کی کدورت نکال لی ہے۔ اور نذر پوری کر لی ہے۔ اے وحشی تو نے میرے سینے کی سوزش کو شفا بخشی۔ وحشی کا شکر پوری زندگی مجھ پر واجب ہے۔ یہاں تک کہ قبر میں میری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں“۔ (تاریخ ابن کثیر)

مسلمانوں نے 630ء میں مکہ پر قبضہ کیا۔ ہند کے شوہر ابوسفیان بن حرب نے نہ صرف خود بغیر لڑے ہتھیار ڈالے بلکہ قریش مکہ کو بھی لڑنے سے روکا، اور انہیں اپنے گھروں کے دروازے بند رکھنے، کعبہ یا اپنے خود کے گھر میں پناہ لینے کی ہدایت کی۔ یہ دن ہند کی زندگی کا تاریک ترین دن تھا۔اپنے گھر میں پناہ کے لئے آتے لوگوں کو دیکھ کر اس کے غصے کی کوئی انتہاء نہیں تھی۔ آخر اس کا ضبط کا بند ٹوٹ گیا اور اس نے آگے بڑھ کر اپنے شوہر ابو سفیان کی مونچھیں پکڑ لیں اور گھر کے صحن میں جمع لوگوں کو مخاطب کر کے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “خنزیر کی گندی چربی سے بنے غبارے کی طرح اس پھولے ہوئے پیٹ والے کو قتل کر دو جو ایک ذرا سا لشکر دیکھ کر حواس باختہ ہو گیا“۔ لیکن سوائے ایک آدھ کے کسی نے بھی مسلمانوں کے لشکر کا سامنا کرنے کی ہمت نہ کی اور مکّہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔

فتح مکہ کے بعد جب آپ مردوں سے بیعت لے چکے تو عورتوں سے بیعت لینی شروع کی۔ ان عورتوں میں ہند کو بھی لایا گیا جو گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی۔ جب اس کی باری آئی تو اس کا گرم صحرائی خون اس قدر ابل رہا تھا کہ اس نے اس بات کی قطعاً پرواہ نہ کی کہ وہ اس وقت اپنے وقت کے فاتح سلطان کے ساتھ مکالمہ کر رہی ہے۔ اور اس کی ذرا سی بے احتیاطی اسے موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔ بیعت لیتے ہوئے آپؐ نے فرمایا: نبی: عہد کرو کہ تم خدائے واحد کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گی۔ ہند: تم ہم سے ایسی بات کا اقرار لے رہے ہیں، جس کا اقرار تم نے مردوں سے نہیں لیا۔ نبی:اس بات کا عہد کرو کہ چوری نہیں کرو گی۔ ہند: ابو سفیان ایک کنجوس آدمی ہے، بقدرے کفالت خرچہ نہیں دیتا۔ میں صرف اپنا خرچہ چراتی ہوں نبی: یہ چوری نہیں ہے نبی: عہد کرو کہ تم زنا نہیں کرو گی ہند: کیا شریف عورتیں زنا کرتی ہیں۔ نبی: عہد کرو کہ تم اپنے بچوں کو قتل نہیں کرو گی ہند: کیا تم نے بدر میں کوئی ہمارا بچہ چھوڑا ہے جسے ہم قتل کر سکیں۔ ہم نے تو بچوں کو پالا پوسا اور جب وہ جوان ہوئے تو تم نے انہیں مار ڈالا۔تم نے بدر کے روز باپوں کو قتل کیا اور اب تم ہمیں ان کے بچوں کے متعلق نصیحتیں کر رہے ہو۔

صحرائی خون کی یہ گرمی صرف ہند تک ہی محدود نہ تھی۔ بدوی معاشرے میں جہاں فیاضی اور مہمان نوازی وغیرہ کو بہت سراہا جاتا تھا۔ وہیں میدان جنگ میں شجاعت کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اپنے قبیلے کی شجاعت کے قصے شاعروں کا مقبول موضوع ہوتا تھا۔ غزوہ بدر میں بہت سے قریش مکہ قیدی ہو گئے تھے۔ ان میں ابو یزید سہیل بن عمرو نامی قیدی بھی شامل تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ رسی کے ساتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے۔ اور وہ نبی کریم کے ایک حجرے کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ جب ام المومنین سودۃ بنت زمعۃ کی نظر ان پر پڑی، تو وہ چند لمحوں کیلئے بھول گئیں کہ وہ ام المومنین ہیں اور یہ قریشی اب ان کا دشمن ہے اور بے اختیار ان کے منہ سے نکلا۔

“اے ابو یزید تم لوگوں نے اپنے ہاتھ پاؤں دوسروں کے اختیار میں دے دیئے۔ تم لوگ عزت کی موت مر کیوں نہ گئے“۔ نبی کریم نے فرمایا، اے سودۃ کیا عز و جلال والے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر ابھار رہی ہو۔ ام المومنین نے کہا، یا رسول اللہ، اس ذات کی قسم ہے، جس نے آپ کو حق پر مبعوث فرمایا ہے۔ جب میں نے ابو یزید کے ہاتھوں کو اس کے گلے میں بندھے پایا، تو میں اپنے آپ کو سنبھال نہ سکی اور یہ بات کہہ دی“۔ (ابن اسحاق، سیرۃ رسول اللہ)

فاطمہ بنت ربیعہ فاطمہ بنت ربیعہ المعروف ام قرفہ کا تعلق بنو فزارا نام کے بت پرست قبیلے سے تھا۔ وہ بارہ بیٹوں اور ایک انتہائی خوبصورت بیٹی کی ماں تھی۔ ام قرفہ وادی القریٰ کے ارد گرد کے تقریبا سو دیہات کی مشترک سردارنی/ رئیسہ تھی۔ اس کے سماجی مرتبے کے اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کے گھر میں پچاس سے زیادہ تلواریں لٹکی ہوئی تھیں، جو مختلف قبائل کے سرداروں نے اسے عزت کے طور پر نذر کی تھیں۔ ایک روایت کے مطابق اگر کہیں دو قبیلے آپس میں لڑ پڑتے تھے تو انہیں لڑائی سے روکنے کیلئے ام قرفہ کا دوپٹہ بھیجا جاتا تھا، جسے نیزے پر گاڑ کر میدان جنگ میں نصب کر دیا جاتا تھا، جس کے بعد لڑائی فوراً ختم ہو جاتی تھی۔

“راوی کہتا ہے کہ ام قرفہ اپنی قوم میں اس قدر بلند مرتبہ سمجھی جاتی تھی کہ لوگ تمنا کیا کرتے تھے کہ ہم کو ام قرفہ کی سی عزت نصیب ہو “۔ (ابن اسحاق، سیرۃ رسول اللہ)

غزوہ خندق کے بعد مسلمان بہت طاقتور ہو چکے تھے، لہذا انہوں نے ارد گرد کی بستیوں پرحملے  شروع کردیئے۔ انہی حملوں میں ایک وادی القریٰ کے علاقے پر تھا۔ اس حملے کی سربراہی کے متعلق دو روایات ہیں۔ ابن اسحاق کی سیرۃ اور تاریخ طبری کے مطابق اس کی سربراہی زید بن حارثہ نے کی۔ جبکہ دوسری روایت کی بنیاد صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے۔ جس کے متعلق یہ حملہ حضرت ابو بکر کی سربراہی میں ہوا۔

“اس واقعہ کے متعلق عبدالرحمن بن ابی بکر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے زید بن حارثہ کو وادی القریٰ بھیجا۔ وہاں بنو فزارا سے ان کی مڈ بھیڑ ہوئی۔ ان کے بہت سے ساتھی شہید ہوئے۔ اور خود زید بھی مقتولین کے درمیان سے سخت مجروح اٹھائے گئے۔ اس واقعہ میں بنو بدر کے ایک شخص کے ہاتھ سے بنو سعد بن ہذیم کے ورد بن عمر مارے گئے۔ مدینہ آ کر زید نے عہد کیا کہ تا وقتیکہ وہ بنو فزارا پر چڑھائی نہ کر لیں، غسل جنابت بھی نہیں کریں گے۔ جب وہ اپنے زخموں سے صحت یاب ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک فوج کے ساتھ بنو فزارہ کے ساتھ لڑنے کیلئے بھیجا۔ وادی القریٰ میں حریفوں کا مقابلہ ہوا۔ زید نے ان کے بہت سے آدمی قتل کر دیئے۔ قیس بن المسحر الیعمری نے معدہ بن حکمہ بن مالک بن بدر کو قتل کر دیا۔ اور ام قرفہ فاطمہ بن ربیعہ بن بدر کو جو مالک بن حذیفہ بن بدر کی بیوی تھی گرفتار کر لیا۔ یہ ایک بہت سن رسیدہ عورت تھی۔ اس کے ہمراہ اس کی ایک بیٹی اور عبداللہ بن معدہ بھی گرفتار ہوا۔ زید کے حکم سے ام قرفہ کو نہایت بے دردی سے اس طرح قتل کیا گیا کہ اس کے دونوں پیروں میں رسیاں باندھی گئیں اور پھر اسے دو اونٹوں کے درمیان لٹکا کر ان اونٹوں کو ہانکا گیا۔ جس سے اس کے دو ٹکڑے ہو گئے “۔ (طبری:تاریخ الامم و الملوک)

“ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی لڑکی کو وارث تخت وتاج بنایا ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنایا ہو”۔ ((صیح بخاری، کتاب المغازی۔حدیث نمبر: 4425

“عورت ہونا یا پیرانہ سالی، کچھ بھی ام قرفہ کو دردناک موت سے بچا نہ سکا۔ اس کی ٹانگیں دو مختلف اونٹوں سے باندھی گئیں، اور ان اونٹوں کو مختلف سمتوں میں دوڑایا گیا۔ جس نے اسے دو حصوں میں پھاڑ دیا۔ اسی خاندان کے دو بھائیوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ زید واپسی پر جلدی سے محمد سے ملا جو اسکی ذہانت کی داد دینے کیلئے اسقدر بے چین تھا کہ صحیح طرح سے کپڑے بھی نہیں پہنے تھے۔ مہم کی کامیابی کا سن کر اس نے اسے ( زید) کو گلے لگا کر چوما۔ ہم نے نہیں سنا کہ نبی نے ام قرفہ کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک پر ناراضگی کا اظہار کیا ہو۔ ام قرفہ کی بیٹی، محمد کو ایک باندی کے طور پر دے دی گئی، جو اس نے اپنے ایک ماننے والے کو دے دی “۔ (ولیم میور، دی لائف آف محمت اینڈ ہسٹری آف اسلام ٹو دی ایرا آف ہیجرہ۔ والیوم چہارم)

درج ذیل حدیث دوسری روایت کو بیان کرتی ہے، جس کے مطابق ام قرفہ کی بیٹی کو اہل مکہ کے حوالے کیا جاتا ہے، تاکہ اس کے بدلے مسلمان قیدیوں کو رہا کروایا جائے۔

“سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے والد سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے (قبیلہ) فزارہ سے جہاد کیا اور ہمارے سردار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے جنہیں ہمارا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا تھا۔ جب ہمارے اور پانی کے درمیان میں ایک گھڑی کا فاصلہ رہ گیا (یعنی اس پانی سے جہاں قبیلہ فزارہ رہتے تھے)، تو ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے پچھلی رات کو اتر پڑے۔ پھر ہر طرف سے حملہ کرتے ہوئے پانی پر پہنچے۔ وہاں جو مارا گیا سو مارا گیا اور کچھ قید ہوئے اور میں ایک گروہ کو تاک رہا تھا جس میں (کافروں کے) بچے اور عورتیں تھیں میں ڈرا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں، میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان میں ایک تیر مارا، تو تیر کو دیکھ کر وہ ٹھہر گئے۔ میں ان سب کو ہانکتا ہوا لایا۔ ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی جو چمڑا کا جبہ پہنے ہوئے تھی۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی جو کہ عرب کی حسین ترین نوجوان لڑکی تھی۔ میں ان سب کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، تو انہوں نے وہ لڑکی مجھے انعام کے طور پر دے دی۔ جب ہم مدینہ پہنچے اور میں نے ابھی اس لڑکی کا کپڑا تک نہیں کھولا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بازار میں ملے اور فرمایا کہ اے سلمہ! وہ لڑکی مجھے دیدے۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم وہ مجھے بھلی لگی ہے اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا تک نہیں کھولا۔ پھر دوسرے دن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں ملے اور فرمایا کہ اے سلمہ! وہ لڑکی مجھے دیدے اور تیرا باپ بہت اچھا تھا۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ آپ کی ہے۔ اللہ کی قسم میں نے تو اس کا کپڑا تک نہیں کھولا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی مکہ والوں کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں کئی مسلمانوں کو چھڑایا جو مکہ میں قید ہو گئے تھے”۔ (صیح مسلم، باب۔ انعام اور قیدیوں کے بدلے مسلمانوں کا چھڑانا، حدیث نمبر: 1145)

سجاح بنت حارث مسلمان قبل از اسلام کی عورت کی حالت کی ابتری بیان کرتے وقت بہت شدّ و مد سے دعویٰ کرتے ہیں کہ زمانہ قبل از اسلام میں والدین بچیوں کو پیدائش کے فوراً بعد زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، اور اس دعوی کیلئے قبیلہ بنو تمیم کا خصوصی طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ سجاح بن حارث بن سوئید اُسی بنو تمیم نامی بدنام قبیلے میں پیدا ہوئی اور مسلمانوں کے دعوے کے برعکس نہ صرف زندہ رہی بلکہ مردوں کو اپنے قدموں میں جھکایا۔ سجاح کا باپ بنو تمیم کی شاخ بنو تربوع سے تھا جبکہ اس کی ماں بنو تغلب نامی عیسائی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔ سجاح ایک فال گیر تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ پیغمبرہ ہے اور اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ جب اس نے قریش مکہ کو ارد گرد کی بستیوں پر قبضہ کرتے دیکھا تو اپنی وحی کو قبیلے کے سامنے پیش کرتے ہوئے اس نے کہا:

“اے اہل ایمان آدھی دنیا ہماری ملکیت ہے۔ دوسرا آدھا حصہ قریش کا ہے، لیکن وہ اپنی حد سے تجاوز کر گئے ہیںِ“۔ (کتاب الاغانی: ابوالفرج اصفہانی)

جب سجاح نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو مالک بن نویرہ، عطارد بن حاجب سمیت بنو تمیم کے کئی بڑے سرداروں نے اسے اپنی نبیہ تسلیم کیا۔ عطارد بن حاجب نے سجاح کے بارے میں کہا۔ ” ہمارا نبی عورت ہے، ہم نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے اور لوگوں کے انبیا مرد ہیں “۔

نبوت کا اعلان کرنے کے بعد سجاح نے مالک بن نویرہ سے رابطہ کیا،جسے نبی کریم نے بنو تمیم کا سردار مقرر کیا تھا۔ مالک نے مسلمانوں کو چھوڑ کر سجاح کی قیادت تسلیم کر لی۔ سجاح نے ارد گرد کے قبیلوں پر حملے شروع کر دیئے۔ رباب نامی قبیلے پر حملہ کرنے پر سجاح نے الہامی پیرایہ میں یہ جملے کہے۔

“سواریاں تیار رکھو، غارت گری کے لئے تیار ہو جاؤ، پھر رباب پر غارت گری کرو، کیونکہ ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہے “۔  (طبری: تاریخ الامم و الملوک)

سجاح کی کامیابیوں کے باعث بنو تمیم کےقیس بن عاصم، احناف بن قیس، جنگجو حارث بن بدر جیسے نامور لوگ بھی سجاح کے ساتھ شامل ہو گئے۔ سجاح نے بنو تمیم کے حلیف قبیلوں پر بھی چڑھائی کی لیکن نیاج کے مقام پر اس کا بہت زیادہ نقصان ہوا اور صلح پر مجبور ہو نا پڑا۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور جلد ہی اپنا لاؤ لشکر اکٹھا کر کے کہا:“یمامہ چلو، کبوتر کی طرح اڑتے ہوئے، یہ لڑائی فیصلہ کن ہو گی اور اس کے بعد تم پر کوئی ملامت نہیں رہے گی “۔

سجاح اس کے بعد یمامہ کی طرف بڑھی جہاں مسیلمہ نامی نبوت کا ایک اور دعویدار تھا۔ مسیلمہ اس وقت ثمامہ بن أثال سے جنگ میں مصروف تھا، جس کی پشت پناہی عکرمہ بن ابوجہل کی زیر سرکردگی مسلمان کر رہے تھے۔ سجاح کی تیز رفتار پیش قدمی سے پریشان ہو کر مسیلمہ نے سجاح کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھایا، اور اسے “خدا کی زمین” سے حصہ دینے کے وعدے کے علاوہ اسے خدا کی پیغمبرہ بھی تسلیم کر لیا۔

“آدھی زمین ہماری اور آدھی زمین قریش کی ہوتی، اگر برابر تقسیم کی جائے، لہذا اب قریش کا حصہ بھی اللہ نے تمہیں دیا ہے، لہذا اسے بخوشی قبول کرو“۔

“تمہارے رب نے تمہیں دیکھا، تم پر سلامتی بھیجی اور وحشت کو تم سے دور کر دیا۔ اور آخرت کے دن وہ تم کو آتش دوزخ سے بچا کر حیات دوام عطا فرمائے گا۔ نیک لوگوں کی دعائیں ہمارے لئے ہیں، جو نہ شقی ہیں نہ بدکار جو تمام رات اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اور دن کو روزہ رکھتے ہیں تمہارے رب کیلئے، جو مالک ہے بادلوں کا اور بارشوں کا“۔ (محمد بن جریر الطبری: تاریخ الامم و الملوک)

کچھ تاریخ کی کتابوں کے مطابق سجاح نے مسیلمہ سے شادی کر لی۔ اور اس نے یمامہ کی فصلوں سے آدھا حصہ خراج کے طور پر وصول کیا اور واپس چلی آئی۔ واپسی پر سجاح کا سامنا خالد بن ولید سے ہوا اور شکست کھا کر اس کی جماعت منتشر ہوگئی۔ سجاح شکست کھانے کے بعد بنی تغلب کے جزیرہ میں جا بسی، تا آنکہ معاویہ بن ابو سفیان نے قحط سالی کے زمانہ میں اسے کوفہ میں ٹھہرایا، یہاں اس نے اسلام قبول کر لیا۔

قبل از اسلام کی عرب عورتیں بناؤ سنگھار کرتی تھیں، جسم پر نقش و نگار بنوانا بہت عام تھا۔ لیکن عورتیں اپنی سجاوٹ کے باوجود مردوں کی ہوس بھری نگاہ سے بچنے یا زیادتی کے ڈر سے حجاب نہیں اوڑھتی تھیں۔ اور نہ ہی پردے کا کوئی تصور تھا۔ عورت اگر چاہے تو اپنی عزت لٹنے کے ڈر کے بغیر، ننگے طواف کعبہ کر سکتی تھی۔ سلمہ، قتیلہ اور خدیجہ کی مثالوں سے واضع ہوتا ہے کہ عورتیں جائیداد کی وارث بنتی تھیں۔ متمول عورتیں آزادانہ طور پر تجارت کرتی تھیں، اور اس کے لئے مردوں کو ملازم رکھتی تھیں ۔ اپنی مرضی سے شادی کرتی تھیں۔ اور بڑی آسانی سے مرد کو چھوڑ بھی سکتی تھیں ۔ مردوں کو کسی کو چھوڑنے کیلئے تیں بار طلاق کے لفظ کی سہولت اور عورتوں کو طلاق کیلئے انتہائی مشکل عمل وجود میں نہیں آیا تھا ۔ عورتیں سردار بھی تھیں اور حاکم بھی۔ عام عورتیں امن کے علاوہ جنگ میں بھی مردوں کا ساتھ دیتی تھیں۔جہاں وہ رجز گا کر مردوں کا حوصلہ بڑھاتی تھیں، اور زخمی ہو جانے والوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کرتی تھیں۔

عورتوں کو صرف سماجی طور پر ہی نہیں بلکہ مذہبی زندگی میں اس کی اہمیت کچھ یوں واضع ہوتی ہے کہ تمام بُت جن کی پرستش کی جاتی تھی ان میں سب سے اہم عورتوں کے بت تھے۔ مکہ میں عزیٰ، طائف میں لات اور مدینہ میں منات سب سے زیادہ مقبول دیویاں تھیں۔ ان مورتیوں کو سب سے زیادہ احترام دیا جاتا تھا جبکہ اللہ نام کا خدا جو ان کا باپ تھا وہ تین میں تھا نہ تیرہ میں۔

قبل از اسلام کی بچیوں کو زندہ دفن کرنے کا دعویٰ انتہائی احمقانہ ہے۔ اگر عرب لوگ اپنی بیٹیاں دفن کر دیا کر دیتے تھے تو پیدائش کے وقت دفن کی جانے والی بچیوں کو کیا مرد جنم دیا کرتے تھے، اگر ان بچیوں کو جنم دینے والی مائیں مرد نہیں بلکہ عورتیں تھیں، تو وہ اپنے بچپن میں دفن ہونے سے کیوں کر بچ گئیں۔ اگر بیٹیاں دفن کر دی جاتی تھیں تو عرب شادی کے لئے لڑکیاں کیا دوسرے ممالک سے درآمد کرتے تھے۔ یا جو بچے پیدا ہوتے تھے وہ بڑے ہو کر مرد بننے کی بجائے لڑکیاں بن جاتے تھے۔ مکہ میں کثیر الازواجی ایک عام سی بات تھی۔ حضور کے پردادا ہاشم کی پانچ بیویاں تھیں، آپ کے دادا عبدالمطلب کی چھ بیویاں تھیں۔ آپ کے والد عبداللہ کی صرف ایک بیوی تھی لیکن اس کی وجہ مکہّ میں عورتوں کی کمیابی نہیں بلکہ عبداللہ کا جلدی فوت ہو جانا ہے، اگر آپ کے والد زندہ رہتے تو اپنے وقتوں کے مطابق ان کی بھی کئی بیویاں ہوتیں۔ اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ سب لوگ تو نہیں لیکن اکثریت بیٹیاں دفن کرتی تھی تو ایسی صورت میں بھی لڑکیوں کا تناسب مردوں کی نسبت اتنا کم ہونا چاہیئے تھا کہ بہت سے مرد مل کر ایک عورت کے ساتھ شادی کرتے۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اگر کوئی ایک آدھ واقعہ ایسا ہوا بھی ہو۔ تو اس کی وجہ بچے کی جنس کی بجائے قحط کے نتیجے کی بدحالی ہوسکتی ہے، جس کی تصدیق موجودہ قرآن بھی کرتا ہے۔

وَلاَ تَقْتُلُوۤاْ أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئاً كَبِيراً

“اور نہ کرو قتل تم اپنی اولاد کو ڈر سے افلاس کے، ہم ہی رزق دیتے ہیں انہیں بھی اور تمہیں بھی،بیشک ہے ان کا قتل کرنا جرم بڑا”۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر 31)

فاتح جب بھی اپنے مفتوح کی تاریخ لکھتے ہیں تو وہ مفتوح قوم میں دنیا بھر کے عیب گنواتا ہے اور اپنی تہذیب کو انتہائی نہ صرف افضل گردانتا ہے بلکہ مفتوح سے بھی یہی منواتا ہے۔آپ ؐ کے بعد یہی کچھ مسلمانوں نے کیا ہے، اسلام جب دنیا میں پھیلا تو ایک سے ایک بہترین سماجی، معاشی و مذہبی نظام ثابت کرنے کیلئے قبل از اسلام کے کھاتے میں ہر ممکنہ برائی ڈال دی گئی۔ کسی ایک آدھ انفرادی واقعے کی بنیاد پر پورے ایک عہد کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے مستقبل کا کوئی مؤرخ لکھے کہ پاکستانی مرد عورتوں کے چہروں پر تیزاب پھینک دیا کرتے تھے۔ جو باوجود سچ ہونے کے ایک انفرادی فعل ہے اور کسی بھی طور مجموعی معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتا۔

Abdu’l Rehman ibn Khaldun 1332–1406

Shared by Mirza Ashraf!

The Great Muslim Theorist of Socio-Political Science

NOTE: As I have commented earlier that Allama Iqbal had the ability, knowledge, and a greater opportunity to have brought about a Renaissance in the World of Islam if he had thought the way a great socio-political theorist and philosopher of history ibn Khaldun had visualized. Here is an introduction of ibn Khaldun’s philosophy, which I believe if Iqbal had laid the foundation of his socio-political thought on Khaldun’s political philosophy, not only Pakistan rather the whole world of Islam would have got a unique political system. Pakistani nation would have been proud of its own philosophy of life and a political system dynamically different from the rest of the world. — Mirza Ashraf

Abdu’l Rehman ibn Khaldun 1332–1406

Ibn Khaldun, born in Tunis, was a Muslim philosopher of history, political science, and sociology, who devoted his life to a systematic study of human sciences and civilizations. He was the first great historian-philosopher whose research provided rational and a scientific basis for history to be classified as philosophy of history. Ibn Khaldun’s Prolegomena (Muqaddimah) to his Universal History (Kitab al-Ibar) is the most comprehensive synthesis of the human sciences achieved by the Arabs. Ibn Khaldun is known as a towering figure in the field of philosophy of history and social sciences during the time between Aristotle and Machiavelli or any other political philosopher of modern time. In his work A Study of History vol. III, the great historian Arnold Toynbee paying tribute to ibn Khaldun remarks:

An Arab genius who achieved in a single ‘acquiescence’ of less than four years’ length, out of fifty four years’ span of adult working life, life-work in the shape of a piece of literature which can bear comparison with the work of Thucydides or the work of a Machiavelli for both breadth and profundity of vision as well as for sheer intellect power. … He is indeed the one outstanding personality in the history of a civilization. In his chosen field of intellectual activity he appears to have been inspired by predecessors, and to have found no kindred souls among his contemporaries, and to have kindled no answering spark of inspiration in any successor; and yet, in the Prolegomena (Muqaddimat) to his Universal History he has conceived and formulated a philosophy of history which is undoubtedly the greatest work of its kind that has ever yet been created by any mind in any time or place.

Ibn Khaldun brought up on a tradition of scientific method, as a greatest figure in the social sciences with positive outlook and matter-of-fact style, renders him a congenial figure to the modern world, particularly to the mind of Muslims in the World of Islam, which is in search of a political system compatible with their faith.

Ibn Khaldun was a historian, politician, sociologist, economist, a political scientist, and a deep philosopher of human affairs, who analyzed the past of mankind in order to understand and shape its present and its future. For him history is not mere chronicle of events, but is sociology. Other Muslim thinkers, such as ibn Sina, ibn Rushd, and al-Ghazali, who had an impact on Western thought, had inquisitive insight into the metaphysical, philosophical, and religious disciplines. Ibn Khaldun, profiting from these philosophers’ speculations, surpassed them in his approach to social problems and the social sciences. He did not follow Islamic philosophy’s tendency to debate old themes of the relation between revealed theology and rationalistic Greek philosophy. He believed that the intellect should not be engaged in such issues as the oneness of God, the other world, the truth of prophecy, the real character of the divine attributes, or things and matters that lay beyond the level of intellect. He therefore construed a fresh and novel philosophical approach in the form of a natural science. He explored a new perspective, remaining connected with his contemporary genre of philosophical thought, yet setting himself apart by establishing conclusions based on natural science. He introduced a completely new “science of culture” anchored in natural philosophy.

With a legacy of Greek science and philosophy, it was not easy for ibn Khaldun to draw a line between the natural sciences and the positive sciences of divine law. He was convinced that his science of culture was based on natural science and a subject of entirely original social science newly introduced to the Islamic traditions. It relates the study of human society and the causes of its rise and fall. Its different manifestations are a subject of natural inquiry. It is a new and important science virtually invented by ibn Khaldun. Arguing about the importance of history he argued: “Water is not so like to water as the future to the past.” He was the first thinker to have introduced the subject of sociology as an important part of social sciences. To him, sociology is the study of present which throws light on History and the study of past, in the same way as History provides materials for it. Sociology, not religion, is basically a study of various forms of human society by investigating the nature and characteristics of each of these forms, and analyzing the laws governing its evolution.

Though man is the center of his world, he is fully dependent on his physical environment, and in his capacity as an individual he cannot secure all the things required necessarily for his livelihood. Thus man, the individual, has to cooperate with others and live as a family, tribe or a nation. Man’s this act of cooperation is basically enabled by his natural ability to think as a social human being. The core of ibn Khaldun’s political and general sociology is his concept of asabiya, or “social solidarity.” Human beings, insofar as they display asabiya, or political cohesion, form into more or less stable social groups. Village societies or nomadic groups have strong asabiya. For him asabiya is an essential attribute of humanity more basic than the religion, as it is not just by accident that human beings live together; rather, society is natural and necessary. To establish an organized political society, it is necessity to band together for defense, and for agricultural and industrial fulfillment. An abundance of resources in a particular region necessitates the emergence of a group. Then there is a need for the distribution of cultures on earth, which is possible only by living together. He also points out the effect of climate and atmosphere on various cultures and their influence on character.

Addressing the issue of the presence of prophecy in a society, ibn Khaldun maintained that “divine political science” is not natural or necessary. Unlike Aristotle he believed that man by nature is a political creature naturally capable of observing natural constituents. He daringly argued that for the formation of a society and the survival or continued existence of man, there is no need to follow revelation and introduce divine rules to establish divine government. His other argument was that the premises and conclusions of divine political science are not rationally demonstrable, as unaided reason cannot achieve certainty of divine law. Divine laws only command but do not demonstrate rationally the need to hold the opinions and perform the actions. For human reason these divine commands remain undemonstrated, however, they continue to hold the status of belief or opinion.

Ibn Khaldun’s naturalistic approach is the forerunner of modern social science, history, and economics. He professed that the difference between different peoples arises out of the variances of their occupations. Few sociologists have seen the influence exerted by a trade on the character of those pursuing it. His psychology of education is built on the notion of aptitude or skill. Every thought and action necessarily leaves its imprint on the mind of the agent. A continued or a prolonged repetition of the same action indisposes the mind to acquiring a different occupation. He explains the effect of supply and demand factors on prices and wages, supports free competition, and condemns monopoly. As civilization progresses the importance of agriculture declines, while that of services increases. His views on “pure economics” fully earn him the title of Pioneer Economist. He visualized ahead of many modern economists and sociologists the interrelation of political, social, economic, and demographic factors.

About God’s existence ibn Khaldun said, “All objects in the created world, whether they are things or acts (human or animal) presuppose prior causes which bring them into being. Each of these causes is in its turn an event, presupposes prior causes. Hence the series of causes ascend until it culminates in the Cause of causes, their Maker and Creator.” About human beings he said, “Man is made up of two parts; one of the corporeal, and the other spiritual, fused with it. Each of these parts has its own particular powers of apprehension. The spirit apprehends at some times spiritual matters and at other times corporeal; but whereas it apprehends spiritual matters by its own essence, without using any medium, it apprehends corporeal objects only through the instrument of the body, such as the brain and the sense organs.”

Ibn Khaldun, a passionate believer of the religion of Islam, lived an agitated life which, according to Nathaniel Schmidt’s views in Ibn Khaldun, New York 1930, “took him to the huts of savages and into the palaces of kings, into the dungeons with the criminals and into the highest courts of justices; into the companionship of the illiterate and into the academies of scholars; into the treasure houses of the past and into the activities of the present; into deprivation and sorrow and into affluence and joy. It had led him into the depths where the spirit broods over the meaning of life.” Thus, ibn Khaldun’s constant intrigues of life and naturalistic views, led him to changes of allegiance to different rulers and regions from Arab Spain to Syria, which give an impression to modern critics as his lack of patriotism. But this great genius and scholar in the Islamic History has remained true to one fatherland known as Dar al Islam, or the world of Muslim civilization. — MIRZA ASHRAF

A Letter To Terrorist By Young Muslims

(By Carol Sanders) Ever wonder what young Muslims here would say to a violent extremist if they got the chance? You can find out in less than three minutes.

That’s how long it takes to watch Letter to a Terrorist, a short film by Winnipeg filmmaker Nilufer Rahman.

She and her company, Snow Angel Films, brought together a group of Muslim friends to share what they wanted the film to say.

south Winnipeg that looks as far away as one can get from the chaos of recent terror in San Bernardino, Paris and Beirut.

The voice-over written by Rahman in English and translated to French starts with a young woman saying she feels helpless. She cannot move — her body is frozen and yet her heart is racing and her mind can’t be stilled.

With world events, that’s how many young Muslims are feeling right now, said Rahman who grew up in Winnipeg.

They’re just as confused by the motives of an Islamic State terrorist as anyone else in Winnipeg, yet they’re expected to explain it, Rahman said in an interview.

“Faith is something to draw comfort, peace and inspiration from,” she said. “This is the foundation from which I’ve learned my faith and any relationship I build is supposed to be based on peace. To try and reconcile acts of terrorism in the name of Islam by people who say they’re Muslim is very difficult… It puts every Muslim on the globe in a precarious position,” she said.

“A lot of people are saying ‘Where are the moderate Muslims? Why aren’t they speaking up? Why aren’t they doing anything?’ ” said Rahman. “I know a lot of Muslims are doing that. They’re speaking to community groups and mosques are opening their doors and trying to build bridges and create opportunities for conversations to eliminate some of the fear.”

They still feel powerless. “You can’t talk directly to the extremist.”

She said Letter to a Terrorist is a form of art therapy.

“My hope was that it would be a way for all of us to articulate how we feel without having to speak it all the time,” she said.

The film’s narration denounces terrorists and expresses sorrow for the pain they’ve caused their victims and families — and sorrow for the backlash against Muslims being felt now.

“They ask me to apologize for what you have done… I’m sorry for the loss of innocents, sorry for the grief of those left to mourn, sorry for those us of left to bear the burden of your toxic hate,” Letter to a Terrorist says.

People hate me because they hear my name and see you. They see my face and they see you. But I am not you. I hate what you do. I never want to be in that dark place that gives you licence to kill and maim so mercilessly and cowardly… Our hearts are not born to hate. Who has poisoned your heart against the world?”

The film ends on a gentle note with the unexpected appearance of a peaceful and silent visito

http://www.winnipegfreepress.com/local/Letter-to-a-terrorist-local-film-gives-voice-to-young-Muslims-360862391.html

posted by f. sheikh