A Ghazal by Iqbal Sheikh 10/16/2017

تنہائیوں کا سیل ِرواں پھیل رہا ہے

بربادیاں ہیں خوفِ زیاں پھیل رہا ہے

ہر سُو نظر آتے ہیں ہجوم ِبشر تشنہ

ہر سُو سرابِ آبِ رواں پھیل رہا ہے

وہ نیلگوں سے آسمانی رنگ کیا ہوئے

یہ سرمئی سا کیسا دُھواں پھیل رہا ہے

ہر سمت گونجتی ہے صدائے طبل مرے

ہر آن کشت و خوں کا سماں پھیل رہا ہے

ملک عدم ہوئے کیا حقائق کے نامہ بر!

جو شہر شہر وہم و گماں پھیل رہا ہے

اقباؔل کیا درختوں سے طائر اُڑا  دئے

گلشن میں جو یہ شور ِسگاں پھیل رہا ہے

A Ghazal by Iqbal Sheikh 10/09/2017

ہم اپنی ذات کے صحرا میں نکل جاتے ہیں
تو تپتی ریت میں سوچوں کی پگھل جاتے ہیں
شمار کرتے ہیں ہم جتنی دیر میں اعداد
تو اُتنی دیر میں اعداد بدل جاتے ہیں
شعور جب مرا خواب عدم میں چونکتا ہے
وجود آ کے مری آنکھوں کو مل جاتے ہیں
نئی جو ابتدا اک انتہا پہ ہوتی ہے
یہ خال و خد مرے اُس آن بدل جاتے ہیں
شعور و آگہی کی روشنی پھیلانے کو
ہمارے ساتھ سوالات کے حل جاتے ہیں
مسائلوں کی وہاں فصل اُگ نہیں سکتی
جہاں زمیں پہ مساوات کے ہل جاتے ہیں
یہ کائنات اک سانچوں کا کھیل ہے اقبال
پرانے سانچے نئے سانچوں میں ڈھل جاتے ہیں
وہ جھیلیں شب میں اترتے ہیں چاند تارے، وہاں
میں جاتا ہوں مری سوچوں کے کنول جاتے ہیں
پرانے ہوں بھلے ، سکے طلائی ہوں اقبال!
تو ہر نگر ہر اک بازار میں چل جاتے ہیں

A Ghazal by Iqbal Sheikh

مری کہاں سے ہوئی ابتدا کہانی کی؟
مکاں کی بات کروں میں یا لا مکانی کی
عبارتوں کے حسیں سلسلے بنے جونہی
متاعِ ذہن کی لفظوں نے ترجمانی کی
مجھے تُو انگلی پکڑ کے گھما رہا ہے کیوں
وجہ بتا تو مجھے اپنی مہربانی کی
خرد کی سیڑھیوں پہ وہ قدم نہیں رکھتا
لگی ہو لت جسے نعتوں کی نوحہ خوانی کی
سنا عجم کو عرب کی نہ داستاں احمق
تُجھے عادت بُری کیوں ہے یہ چھیڑ خوانی کی
ثبوت کیا بھلا اقبال اُس کا ہے ممکن
کسی نے بات کسی سے جو منہ زبانی کی

A Ghazal by Mirza I Ashraf

Trying to fulfill your desire for a Ghazal–though not as thoughtful as you sent me–I have said as here:

طوقِ ظلمت میں ہے بیکس پائے کوباں آج بھی
اہلِ زر جھنکارِ سیم  و زر پہ رقصاں آج بھی

ہے عجب دنیا میں انسانوں کا دستورِ معاش
چند دولت مند باقی  بھوکے ترساں آج  بھی

مالداروں اور زمینداروں کی خدمت  کیلئے
روز و شب محنت کریں مزدور و دہقاں آج بھی

زندگی سرمایہ داری کی سلاسل میں مقید
اشتراکیت  شکستہ  پا بجولاں   آج  بھی

منتشر رکھتے ہوے مزدور و دہقاں کا نظام
جا بجا سرمایہ کاری کی تباہییاں  آج  بھی

اشرف اُٹھ اب آسماں میں اک شگافِ نو کریں
تا کہ پھر نازل ہو ہم پہ درسِ عرفاں  آج بھی

اشرف