A Ghazal by Iqbal Sheikh 10/09/2017

ہم اپنی ذات کے صحرا میں نکل جاتے ہیں
تو تپتی ریت میں سوچوں کی پگھل جاتے ہیں
شمار کرتے ہیں ہم جتنی دیر میں اعداد
تو اُتنی دیر میں اعداد بدل جاتے ہیں
شعور جب مرا خواب عدم میں چونکتا ہے
وجود آ کے مری آنکھوں کو مل جاتے ہیں
نئی جو ابتدا اک انتہا پہ ہوتی ہے
یہ خال و خد مرے اُس آن بدل جاتے ہیں
شعور و آگہی کی روشنی پھیلانے کو
ہمارے ساتھ سوالات کے حل جاتے ہیں
مسائلوں کی وہاں فصل اُگ نہیں سکتی
جہاں زمیں پہ مساوات کے ہل جاتے ہیں
یہ کائنات اک سانچوں کا کھیل ہے اقبال
پرانے سانچے نئے سانچوں میں ڈھل جاتے ہیں
وہ جھیلیں شب میں اترتے ہیں چاند تارے، وہاں
میں جاتا ہوں مری سوچوں کے کنول جاتے ہیں
پرانے ہوں بھلے ، سکے طلائی ہوں اقبال!
تو ہر نگر ہر اک بازار میں چل جاتے ہیں

Leave a Reply