Imagination and picture of God (God & Concept of God)

 

Shared by Iqbal Sheikh

 

حدِ نظر پھیلا  ہوا شاندار اور خوبصورت ،بے عیب نیلگوں  آسمان ۔یوں لگتا ہے کہ اتنی خوبصورت اور بے عیب کوئی دوسری  شے ہو ہی نہیں سکتی ۔ مگر ایک سوال ہے ،شاید آپ نے بھی کبھی سوچا ہو، کہ یہ آسمان نیلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟ کسی کا  تو جواب  یہ ہوگا کہ خدا نے اسے نیلا بنایا ہے۔ کوئی جو سائنس کی  تھوڑی بہت سوج بوجھ رکھتا ہوگا ،کہے گا فضاء میں معلق پانی کے بخارات نیلے رنگ کا آسمان ہیں۔

کیا یہی حقیقت ہے؟ کیا یہی پانی کے بخارات نیلے رنگ کا آسمان ہیں؟ بالکل کہہ سکتے ہیں، مگر یہ ہمیں نیلے رنگ کے کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ یہ بھی ایک سوال ہے۔ کیا یہ ہماری آنکھوں کا کمال ہے کہ روشنی ان سے گزر کر ہماری آنکھوں کے ریٹینا پرپڑ رہی ہے۔ مگر پھر بھی یہ نیلا ہے کیا؟ ہم  آپ سے کہیں گے کہ نیلا کچھ نہیں ہے۔ نیلا رنگ صرف اور صرف آپ کے دماغ میں ہے۔ آپ کہیں گے: کیا کہہ رہے ہو یار۔

مگر یہی حقیقت ہے۔ روشنی آپ کی آنکھوں میں پڑتی ہے اور آنکھیں آپ کے دماغ کو معلومات دیتی ہیں ۔اور اس معلومات کا مطلب دماغ کے لیے نیلا رنگ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ درحقیقت نیلے رنگ کے آسمان کو سمجھنے کے لئے دماغ نے ایک نظام بنایا ہوا ہے۔ جب آنکھوں پر روشنی پڑی تو اس روشنی کے مطابق دماغ کو معلومات دی گئیں۔ اور اس سے دماغ نے ایک تصوراتی تصویر بنائی جو حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ بعینہی تمام  احساسات ہمارے حواسِ خمسہ کے ذریعے دماغ کو خارجی حقائق کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

یعنی  جو ہم دیکھتے ہیں، جو سونگھتے ہیں وہ ہمارے دماغ کے اندر چل رہا ہوتا ہے۔ اور ہمارے حواس کے ذریعے سے دماغ میں آنے والی تمام معلومات سے ایک عکس بنتا ہے جو صرف دماغ کے اندر ہوتا ہے۔ تمام چیزیں جو ہمارے ارد گرد وجود رکھتی ہیں ان کا وجود ایک حقیقت ہے۔ جس کو ہمارا دماغ سمجھتا ہے اور اس کی اپنے انداز میں ایک تصویر بنا لیتا ہے اس طرح سے ہمارا دماغ ہمارے ارد گرد کے ماحول کی حقیقت سے رابطے میں رہتا ہے۔

دوسری طرف دماغ میں چلنے والی ہر چیز، ہر سوچ، صرف حواسِ خمسہ پر ہی انحصار نہیں رکھتی۔ دماغ کی ایک اپنی دنیا ہے۔ اس دنیا میں سوچ کی بے شمار تصویریں ہیں۔ یہ تصویریں حقیقت پر بھی  مبنی ہوتی ہیں اور تخیل پر بھی ۔تخیلات اور حقیقت مل کر دماغ کی سمجھ بوجھ میں اپنا اپناکردار ادا کرتے ہیں۔

ہم میں سے ہر ایک نے زندگی میں کبھی نہ کبھی گھوڑا ضرور دیکھا ہوگا۔ اب اگر میں آپ سے پوچھوں تو آپ با آسانی مجھے بتا دیں گے کہ گھوڑا ایک جانور ہے ۔اس کی شکل ایسی ہوتی ہے۔ اس کی چار ٹانگیں ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر اگر میں آپ سے پوچھوں کہ پری کیا چیز ہے؟ تو ہر کسی کا جواب مختلف ہوگا۔ کوئی کہے گا اس کے دو پر ہوتے ہیں۔ کوئی کہے گا چار ہوتے ہیں۔ کوئی کہے گا اس کے بال اتنے لمبے ہوتے ہیں۔ کوئی کہے گا اس کی پوشاک ایسی ہوتی ہےاورکوئی کہے گا ویسی ہوتی ہے۔ اصل میں گھوڑے اور پری کی مثال دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گھوڑا ایک حقیقت ہے اور پری دماغ کی ایک تصوراتی تصویر۔ اگر آپ کسی سے گھوڑے کے بارے میں پوچھیں گے تو ہر کوئی گھوڑے کی تقریباً ایک جیسی خصوصیات ہی بتائے گا۔ مگر پری یا پھر جل پری، جن بھوت، بلائیں اور ہر قسم کے خیالی اور تصوراتی کرداروں کی ہیئت اور اشکال میں آپ کو ایک ایسا تضاد ملے گا ۔کہ اگر آپ صرف ان کی خصوصیات کسی کو بتانے لگیں اور کہیں کہ بوجھو میں کس چیز کے بارے میں بتا رہا ہوں تو کوئی کسی خاطر خواہ نتیجے پر نہیں پہنچ پائے گا۔

یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تخیلاتی چیزیں جو صرف دماغ میں ہوتی ہیں ان میں بے شمار تضاد ہوگا ۔کیونکہ ان کا تعلق خالصتاً دماغ کی دنیا سے ہے ۔جبکہ حقیقی وجود رکھنے والی چیزوں کے بارے میں تضاد نہیں ہوگا ۔کیوں کہ ان کا تخیل یا تصویر دماغ نے حواسِ خمسہ کے ذریعے لے کر اپنے اند محفوظ کی ہوئی ہوتی ہے۔ اسی باعث ان تصورات میں تضاد نہیں ہوتا۔ مگر جو تصوراتی چیز صرف اور صرف دماغ کی پیداوار ہے اس کے بیان میں تضاد ضرور ہوگا۔اگرپری اور جل پری کی ہی بات لے لیں، توبتائیے کہ پری کا تصور پہلے آیا ہوگا کہ جل پری کا؟ شاید پری کا۔ یعنی ایک خوبصورت عورت جس کے پر ہوتے ہیں اور وہ اڑ سکتی ہے۔ پھر کسی دن کسی نے سوچا کہ اگر خوبصورت پری ہوا میں پروں کے ذریعے اڑ سکتی ہے تو پانی میں تیرنے کے لئے اس کو مچھلی جیسی ایک دم کی ضرورت ہوگی۔ تو لیجئے جی جل پری بن گئی !کوئی کہے گا کہ جل پریاں انسانوں کی دوست ہیں ،تو دوسرا کہے گا نہیں وہ تو آدم خور ہوتی ہیں۔ یعنی تصوراتی کرداروں کے بارے میں تصورات میں تضاد انتہائی زیادہ ہوگا۔ ہاں گھوڑے کے قد یا جسامت میں فرق ہو سکتا ہے۔ مگر کوئی بھی یہ نہیں مانے گا کہ گھوڑا اڑ سکتا ہے۔ مگر جل پری کے بارے میں یہ بات کوئی  بھی آسانی سے مان لے گا۔

دنیا میں ایسی بھی چیزیں ہیں جو دماغ کے تصور کی پیداوار ہیں ۔مگر انسانی صنعت کے باعث حقیقت کا روپ دھار گئیں۔ ان چیزوں کی ہیئت اور بناوٹ کے بارے میں بھی کوئی خاص تضادات نہیں ہوتے۔ اور اگر ہوتے بھی ہیں تو تھوڑا بہت حواسِ خمسہ کے استعمال کے بعد دور ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ چیزیں جو خالصتاً تصور میں رہتی ہیں ان کے بارے میں تضادات کو دور کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ دماغ ان کی حقیقت کو کبھی بھی دریافت نہیں کر سکتا۔ اس لئے ان تصورات میں اضافہ یا بڑھوتری صرف تصوراتی بنیادوں پر ہو کر ان معاملات کو مزید پیچیدہ کر دیتی ہے۔

آپ کو دنیا میں جل پریوں کے مصوروں کے بنائے ہوئے فن پارے تو مل جائیں گے مگر دنیا میں کوئی حقیقی جل پری کبھی بھی نہیں ملے گی۔ ان کے حُسن کے قصے بھی کتابوں میں مل جائیں گے۔ ان کا ذکر شاعری میں، دیومالائی قصوں میں بھی مل جائے گا ۔مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مصور تصویر بناتا ہے۔ جل پری اس کے دماغ میں ایک تصور ہے ۔اس کو کینوس پر اتار دیتا ہے۔ ہر مصور کی جل پری مختلف ہوگی۔ کسی کے بال سرخ ہوں گے تو کسی کے سبز۔ کسی کی دم شارک سے ملتی ہوگی تو کسی کی ڈولفن سے۔ کسی کی کھال پر ہیرے جڑے ہوں گے تو کسی جلد مچھلی جیسی ہوگی ۔ اور کسی مصور کی جل پری مچھلی کی دم کی جگہ آکٹوپس کی ٹانگیں رکھتی ہوگی۔

انسانی ارتقاء کے دوران ہمیں 40000 سال پرانی غاروں میں انسانوں کی بنائی ہوئی تصویریں ملتی ہیں۔ اس وقت انسان اس قابل تھا کہ اپنے ذہن میں پائی جانے والی باتوں کو تصویروں کی زبان میں بیان کر سکے۔ مگر اس وقت کی تصاویر زیادہ تر شکار کی داستانیں بیان کر رہی ہوتیں تھیں۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا گیا ، نسبتاً جدید زمانے یعنی 10000 سے 20000 سال کے عرصے میں انسان تصورات کو بھی تصویروں میں ڈھالنے لگا۔ اسی دوران کہیں خدا کا تصور بھی پروان چڑھ چکا تھا۔ اور اب انسان نے دیویوں اور دیوتاؤں کی مورتیں اور تصاویر بنانی شروع کر دیں۔ یعنی تصور ِخدا جو انسان کے ذہن میں تھا، اس نےمختلف اشکال میں دنیا میں تصویری حقیقت میں ڈھالنا شروع کر دیا۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ ایک جل پری کی طرح خدا بھی کئی قسم کے ہیں۔ سورج بھی خدا ہے۔ بعل جو کہ ایک بچھڑا ہے وہ بھی خدا ہے۔ مگر مچھ اور کچھوے بھی خدا ہیں۔ یعنی تصورِ خدا میں ایک جل پری کے تصوراتی کردار سے کہیں زیادہ تضادات ہیں۔ کہیں خدا بادلوں میں گرجتا اور باز کی شکل لیتا ہے۔ تو کہیں وہ ناموجود ہے۔ کہیں وہ پانیوں کا خدا ہے تو کہیں آسمان کا۔ اسی طرح اس کے بے شمار اوتار ہر قسم کے متضاد خداؤں کو دنیا میں متعارف کرتے رہتے ہیں۔ کہیں زیوس، را، سیتھ، بعل، اوڈن، یہواہ اور اللہ۔

خداؤں کی دو اشکال ہیں۔ یا تو وہ بالکل انسان کے دماغ میں رہتے ہیں۔ مسیحت کا خدا کہتا ہے وہ دل میں رہتا ہے۔ اسلام کا خدا بھی کھلے دل سے اس کو قبول کرنے کی بات کرتا ہے۔ دوسرے خدا جو انسانی دل و دماغ (حقیقت میں تو خدا صرف دماغ ہی میں ہوتا ہے) سے نکل کر کینوس اور تراشی ہوئی صورتیں بن جاتے ہیں۔ یعنی خدا کی حقیقت صرف تصور یا پھر تصویر کے اظہار ہی میں ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خدا صرف ایک تصور ہے۔ جو بھی چیز وجود رکھتی ہے اس کے بارے میں تضادات نہیں ہوتے۔ مگر خدا تضادات سے بھرا پڑا ہے۔ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے بھی اپنے خدا کی ہیئت کے بارے میں بے شمار تضادات ہوتے ہیں۔ مختلف مذاہب کے تصورِ خدا تو بالکل ایک دوسرے سے مکمل متضاد ہیں۔

اگر خدا کی کوئی حقیقت ہوتی تو چین میں رہنے والے جین مت کے ماننے والے، عرب کے مسلمان، افریقہ کے مگر مچھ کے پجاری اور حقیقی امریکی باشندوں کے خداؤں میں کوئی تو یکسانیت ہوتی۔ گھوڑے تو ان سب ملکوں کے لوگوں کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ پانی کیا چیز ہے ،اس پر بھی کوئی اختلاف نہیں۔ زبان میں پانی کے نام پر اختلاف ضرور ہو سکتا ہے مگر ہر کوئی جانتا ہے کہ  پانی کیا چیز ہے اور اس کو پیا جاتا ہے۔ پانی زمین پر ہر جگہ جہاں انسان رہتا ہے مل جاتا ہے۔ تو پھر خدا جو ہر جگہ موجود ہے اس کے بارے میں اتنے اختلاف کیوں ہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ جل پری کی طرح خدا بھی ایک دماغی تصویر ہی ہے جسے انسان کینوس، کتب اور عبادت گاہوں میں اتار رہا ہے؟؟؟

One thought on “Imagination and picture of God (God & Concept of God)

  1. I totally agree with the article’s conclusion about images of God varying from people to people because something that is not real and is only imaginary can be imagined differently depending on the person’s individual imagination or a culture’s collective imagination.
    I just wanted to make a correction in the article where, in the beginning, it is said that brain has come up with a system to form the color of sky as blue. Its not the accomplishment of the brain that sky looks blue, its the refraction of light; light’s spectrum consists of all the colors of rainbow and the molecules of air scatter the colors and blue being the short wavelength gets scattered more than red that has long wavelength, hence during day time we see blue and by the time of sunset light reaches us after having travelled longer distance through air due to earth having rotated away thus scattering again the already scattered blue and dimming it making red more visible. So its not brain’s interpretation but the refraction of light.

    Babar

Comments are closed.