The Social Status of Women – Before Islam Part 1

Shared by Iqbal Sheikh!

The Social Status of Women – Before Islam

….

ظہورِ اسلام سے پہلے کے عہد کو  مسلمان “دور ِجاہلیت” یا جاہلیۃ  سے موسوم کرتے ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ  اُس دور میں جہاں دنیا (مکہ اور گرد و نواح) ہر ممکنہ برائی سے لتھڑی ہوئی تھی، وہیں عورتوں کی حالت بھی بہت ناگفتہ بہ تھی۔ سر زمینِ عرب میں بچی کی پیدائش خوشی کی بجائے باعث ِذلت سمجھی جاتی تھی۔ بچیوں کو پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ عورتوں کی حیثیت غلاموں یا جانوروں سے مختلف نہیں تھی ۔انہیں خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ شادی کے مسئلے پر بھی ان کی رائے نہیں لی جاتی تھی۔ بلکہ جو سب سے زیادہ بولی دے، لڑکی اس کے حوالے کر دی جاتی تھی۔ عورت مرد کے نزدیک ایک جنسی کھلونا تھی۔ وہ جائیداد کی مالک بن سکتی تھی اور نہ ہی اسے وراثت میں سے حصّہ ملتا تھا۔ بلکہ خاوند کے مرنے کے بعد بیٹے اپنے باپ کی بیویوں کو ورثے کے طور پر آپس میں بانٹ لیا کرتے تھے۔ یا انہیں گھر سے نکال دیا جاتا تھا۔ بیوہ کو ایک سال تک ایک ایسے حجرے میں رہنا پڑتا تھا جس میں روشنی یا ہوا کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ اس حجرے کو چھوڑنے کی اسے اجازت نہیں ہوتی تھی۔ وہ نہ تو نہا سکتی تھی اور نہ ہی کپڑے بدل سکتی تھی۔ جب وہ ایک سال بعد باہر آتی تھی تو اس پر اونٹ کا پیشاب پھینکا جاتا تھا۔ جس سے یہ مطلب ہوتا تھا کہ اس عورت نے اپنی عدت پوری کر لی ہے۔ غرضیکہ عورت ذلت کی گہرائیوں میں گری ہوئی تھی۔ جبکہ اسلام نے عورت کو نہ صرف تمام حقوق دیئے بلکہ اس کی حیثیت کو اوجِ ثریا کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

کیا زمانہ قبل از اسلام کی عورت کی حالت واقعی اس قدر بری تھی جتنی ہمیں بتائی جاتی ہے ۔یا یہ سراسر جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا ہے۔ اس دعوے کے سچ اور جھوٹ کی تفصیل میں جانے سے پہلے ضروری ہے کہ لگے ہاتھوں بعد از اسلام کی عورت کی حالت کو بھی دیکھا جائے۔ تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اسلام عورتوں کی حالت میں کونسی بہتری لے کر آیا ہے۔ یا اسلام کے بعد عورتوں کی قدر و منزلت میں کونسا اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ ہر ملک یا ثقافتی گروہ کے اپنی معاشرتی اقدار اور اصول و قواعد ہوتے ہیں جو کسی بھی ملک کی عورتوں کے سماج میں مقام کا تعین کرتے ہیں۔ لہذا اس کیلئے سعودی عرب، ایران یا کسی اور مخصوص اسلامی ملک میں عورتوں کی حالت کا تجزیہ کرنے کی بجائے مناسب یہ ہے کہ اسلام کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کیا جائے۔ اور انہی کتابوں میں درج کی گئی عبارت سے اسلام کے عورتوں کی حالت میں سدھار لانے کے اسلامی دعوے کا موازنہ قبل از اسلام کی عرب عورت سے کیا جائے۔

لیکن جونہی عقیدت کی چاردیواری سے باہر نکل کر  ہم اسلام میں عورت کی قدر و منزلت جاننے کیلئے قرآن اور حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو عورتوں کی اسلام میں حیثیت ان دعوؤں کے بالکل برعکس نطر آتی ہے ،جن کا ذکر اکثر سننے اور پڑھنے میں آتا ہے۔ عورتوں کو اوج ِثریا پر پہنچانا تو در کنار، اسلام نے عورت کا مقام اس قدر گرا دیا ہے کہ اسے اٹھنے کیلئے اگر صدیاں نہیں تو کم از کم بہت سے عشروں کی جان توڑ جدوجہد کی اشد ضرورت ہے۔قر آن مرد کو عورتوں سے نہ صرف افضل ٹھہراتا ہے، بلکہ سدھارنے کے نام پر عورتوں کی پٹائی کی بھی ہدایت کرتا ہے۔

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَآ أَنْفَقُواْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِي ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّاً كَبِيراً

مرد حاکم اور نگران ہیں عورتوں کے، اس وجہ سے کہ فضیلت دی ہے اللہ نے انسانوں میں بعض کو بعض پر، اور اس بنا پر کہ خرچ کرتے ہیں مرد اپنے مال ( ان پر ) ، پس نیک عورتیں (ہوتی ہیں) اطاعت شعار، حفاظت کرنے والیاں (مردوں کی) غیر حاضری میں، ان سب چیزوں کو جن کو محفوظ بنایا ہے اللہ نے۔ اور جن عورتوں سے اندیشہ ہے تمہیں، سو نصیحت کرو اور ان کو (اگر نہ مانیں تو) تنہا چھوڑ دو ان کو بستروں میں اور (پھر بھی نہ مانیں تو) مارو ان کو، پھر اگر اطاعت کرنے لگیں وہ تمہاری، تو نہ تلاش کرو ان پر زیادتی کرنے کی راہ، بیشک اللہ ہے سب سے برتر اور بڑا۔(سورۃ النساءآیت نمبر34)

اسلام میں عورت کو مرد کیلئے ایک ایسی چیز قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد مرد کی جنسی خواہش کی تسکین اور اولاد پیدا کرنا ہے۔ قرآن کے مطابق عورتیں کھیتیاں ہیں اور مرد کسان ہیں۔ اور انہیں ان کھیتیوں کو اپنی مرضی سے “کاشتکاری” کیلئے استعمال کر نے کی اجازت دی گئی ہے۔

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُواْ حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ وَقَدِّمُواْ لأَنْفُسِكُمْ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوۤاْ أَنَّكُمْ مُّلاَقُوهُ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

تمہاری عورتیں کھیتیاں ہیں تمہاری، سو جاؤ اپنی کھیتی میں، جس طرح چاہو (استعمال کرو) اور آگے کی تدبیر کرو تم اپنے واسطے ، اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خوب جان لو کہ پیش ہونا ہے اس کے حضور اور خوشخبری دے دو (اے نبی) اللہ والوں کو ۔(سورۃ البقر آیت نمبر۔ 223)

اسلام میں عورت اور مرد کی “برابری” کیلئے قرآن میں کچھ یوں درج ہے:

وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ

البتہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ حاصل ہے۔(سورۃ البقرۃ آیت نمبر۔ 228)

عورتوں کو ذہنی طور پر پسماندہ قرار دینے کا بیان قرآن میں کچھ یوں کیا گیا ہے۔ یہی آیت ایک آدمی اور دو عورتوں کی گواہی کو برابر قرار دئے جانے کی قرآنی بنیاد ہے۔

وَٱسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ مِّن رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا ٱلأُخْرَىٰ

اور گواہ بنا لو دو گواہ، اپنے مردوں میں سےپھر اگر نہ موجود ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں، ایسے لوگوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو بطور گواہ تاکہ ( اگر) بھول بھٹک جائے ان ( عورتوں) میں سے ایک، تو یاد دہانی کرا دے ان میں سے دوسری اس کو۔(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282)

عورت اور مرد کی سماجی اور مذہبی حیثیت کا تعین جس طرح سے اسلام میں کیا گیا ہے، درج ذیل حدیث اس کی ایک بہتریں مثال ہے۔

حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو کسی کیلئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے (جامع ترمذی ، ابواب الرضاع، حدیث نمبر 1030)

اسلام جس انداز میں عورتوں کی تذلیل کرتا ہے، اس پر چند درج ذیل احادیث بہت اچھے انداز میں روشنی ڈالتی ہیں۔

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمرؓ نےبیان کیا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ نے فرمایا تھا کہ نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔(صحیح بخاری، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 2858)

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا، رسول اللہ عید الاضحیٰ یا عید الفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ عورتوں کے پاس سے گذرے اور فرمایا، اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو کیونکہ میں نے جہنم میں تم کو ہی زیادہ دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا، یارسول اللہ کیوں؟، آپ نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی نا شکری کرتی ہو باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے۔ میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کیا کہ ہمارے دین اور عقل میں نقصان کیا ہے رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟۔ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپؐ نے فرمایا، یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپؐ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تونہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے۔ عورتوں نے کہا، ایسا ہی ہے۔ آپ نےفرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔(صیح بخاری، کتاب الحیض، حدیث نمبر 304)

آپؐ نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی اور اس کا ایک خوشہ توڑنا چاہا تھا۔ اگر میں اسے توڑ سکتا تو تم رہتی دنیا تک کھاتے اور مجھےجہنم بھی دکھائی گئی۔ میں نے اس سے زیادہ بھیانک اور خوفناک منظر نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا اس میں عورتیں زیادہ ہیں۔ کسی نے پوچھا، یا رسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا، اپنے کفر کی وجہ سے۔ پوچھا گیا کیا اپنے اللہ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟۔ آپ نے فرمایا کہ شوہر اور احسان کا کفر کرتی ہیں۔ زندگی بھر تم کسی عورت کےساتھ حسن سلوک کرو، لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آ گئی تو فورا یہی کہے گی کہ میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔(صیح بخاری، کتاب الکسوف حدیث نمبر 1052)

درج ذیل حدیث میں عورت کی صرف تذلیل ہی نہیں کی گئی بلکہ اسے ایک ایسی چیز کے طور پر پیش کیا ہے جو مرد اپنے فائدے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، عورت مثل پسلی کے ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے۔ اور اگر سے فائدہ حاصل کرنا چاہو گے تو اس کے ٹیڑھ کے ساتھ ہی فائدہ حاصل کرو گے۔(صیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر: 5184)

مردوں کی عورتوں پر فضیلت صرف آزاد مردوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جہاں تک حقوق کا سوال ہے مرد غلام کو اپنی ساتھی غلام عورتوں سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس غلام اور باندی تھے۔ حضرت عائشہ کا یہ ارادہ ہوا کہ دونوں کو آزاد کر دیں۔ پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ رسول کریم کے سامنے کیا تو آپ نے فرمایا۔ اے عائشہ تم باندی سے پہلے غلام کو آزاد کرنا۔(سنن نسائی، جلد دوم، کتاب الطلاق، حدیث نمبر 3479)

مذہبِ اسلام کے نزدیک مرد کی جنسی خواہش کی تسکین اس قدر اہم ہے کہ روز ِمحشر عورت کا جنت اور جہنم جانے کا فیصلہ اس بنیاد پر ہو گا، کہ وہ کس حد تک اپنے شوہر کو جنسی طور پر مطمئن کرسکتی ہے۔

حضرت ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: جو عورت اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنتی ہے ۔(جامع ترمذی ، ابواب الرضاع، حدیث نمبر 1032)

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا، جب شوہر بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے ( ناراضگی کی وجہ سے ) انکار دے، تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔(صیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر: 5193)

حضرت طلق بن علیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو صحبت کیلئے بلائے تو وہ ہر حال میں اس کے پاس جائے، خواہ وہ تندور پر ( روٹیاں پکانے کیلئے مصروف ) ہی کیوں نہ ہو۔(جامع ترمذی، ابواب الرضاع، حدیث نمبر 1031)

کہا جاتا ہے کہ عربوں کی پہلی تحریری کتاب قرآن حکیم ہے۔ اس سے پہلے کا ادب صرف شاعری تک تھا، جو تحریر کی بجائے صرف حافظے تک محدود تھا۔ لیکں بفرض ِمحال اگر واقعی پہلے کوئی لکھی ہوئی تحریر تھی تو وہ اب دستیاب نہیں ہے۔ قبل از اسلام کے ادب کی عدم دستیابی کے باعث اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ہی لکھے ہوئے ادب کا سہارا لیا جائے اور اسی میں سے قبل از اسلام کی عرب عورت کی حالت کو جاننے کی کوشش کی جائے۔ ماریہ بنت شمعون کے واقعے سے جڑی ہوئی ایک حدیث اس سلسلہ میں زمانہ قبل از اسلام کی عورتوں کی ” کسمپرسی” کی داستان کچھ یوں بتاتی ہے۔

عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ مجھے بہت زیادہ تجسس تھا کہ حضرت عمر سے پوچھوں کہ قرآن کریم میں کن دو ازواج مطہرات کا ذکر تھا۔ حتیٰ کہ میں نے اُن کے ساتھ فریضہ حج ادا کیا، میں نے اُن سے پوچھا، اے امیر المومنین وہ کونسی دو اُم المومنین تھیں، انہوں نے فرمایا، عائشہ اور حفصہ۔ آپ نے مزید فرمایا کہ ہم قریشی اپنی بیویوں پر حاوی ہوا کرتے تھے لیکن جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے دیکھا کہ یہاں انصاری عورتیں اپنے مردوں پر حاوی ہیں۔ ان انصاری عورتوں کی دیکھا دیکھی ہماری عورتوں نے بھی وہی روش اپنا لی ہے۔ میں ایک بار اپنی بیوی پر چلّایا، جواب میں وہ بھی ایسا ہی چلّائی، جو مجھے اچھا نہیں لگا، میں نے اُس سے اس کی وجہ پوچھی، تو اس نے بتایا رسول اللہ کی عورتیں بھی اُن کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھتی ہیں، بلکہ اُن سے پورا پورا دن روٹھی رہتی ہیں۔ میں حفصہ کے پاس گیا اور پوچھا کیا تم رسول اللہ کے ساتھ پورا پورا دن روٹھی رہتی ہو، حفصہ نے اس کا جواب اثبات میں دیا۔(صیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر: 5191 کا ایک حصہ)

مندرجہ بالا حدیث مدینہ کی عام عورتوں کے ” مردوں پر حاوی” ہونے کا ذکر کرتی ہیں۔علاوہ ازیں  ہمیں اس سلسلہ میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں۔  مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں میں کچھ خاص عورتوں کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے، جو شائد عام عورتوں کی بہت زیادہ نمائندگی نہ کرتی ہوں۔ لیکن پھر بھی ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ زمانہ قبل از اسلام میں کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں جن کے وقار اور اثر و رسوخ کا یہ عالم تھا کہ اس کی نظیر ہمیں اکیسویں صدی کے موجودہ مسلمان معاشروں میں بھی نہیں ملتی ۔

سلمہ بنت عمرو
سلمہ بنت عمرو، نبی کریم کی پردادی اور آپ کے دادا عبدالمطلب بن ہاشم ( اصلی نام: شیبہ بن عمرو) کی ماں تھیں۔ آپ کا تعلق قبیلہ خزرج کی ذیلی شاخ بنو نجار سے تھا۔ سلمہ کو خزرج قبیلہ کی سب سے با اثر خاتون سمجھا جاتا تھا۔ آپ ایک کاروباری خاتون تھیں اور اپنے تجارتی معاملات خود اپنی نگرانی میں طے کرتی تھیں۔سلمہ جب اور جس سے چاہتیں اپنی مرضی سے شادی کرتی تھیں اور جب جی چاہا اس مرد کو چھوڑ دیتی تھیں۔ آپکا پہلا خاوند أحيحۃ ابن جولۃ تھا جسے یثرب کا سورما سردار سمجھا جاتا تھا۔ اس کا یثرب سے باہر قبۃ میں ایک بہت بڑا ذاتی قلعہ تھا۔ اس سے آپ کے دو بیٹے عمرو اور معبد ہوئے۔ آپکا دوسرا خاوند آپ کے اپنے یہودی قبیلہ بنو نجار سے تھا۔ اس کا نام مالک بن عدی تھا۔ آپکی ان سے ملائکہ اور نوار نامی دو بیٹیاں ہوئی۔ آپ کے تیسرے خاوند کا نام عوف بن عبدالعوف تھا۔ اس سے آپ کی شفاء بنت عوف نامی ایک بیٹی تھی۔

نبی کریم کے پردادا ہاشم بن عبدالمناف ( اصلی نام :عمرو بن مغیرہ) سے شادی کرتے وقت سلمہ نے یہ شرط منوائی کہ وہ اپنا کاروبار ہاشم کے کاروبار میں مدغم نہیں کریں گی، بلکہ دونوں کا کاروبار ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گا۔ سلمہ مکّہ منتقل نہیں ہوں گی بلکہ مدینہ میں قیام پذیر رہیں گی اور ہاشم وہیں ان کے پاس آیا کریں گے۔ پیدا ہونے والی اولاد بھی اپنی ماں کے پاس رہے گی۔ ہاشم یہ سب شرطیں مان کر سلمہ سے شادی کرتے ہیں۔

قریش کے ایک قافلہ کے ساتھ جو تجارتی مال و اسباب سے بھرا پڑا تھا، ہاشم بھی چل پڑے۔ راستہ مدینہ سے گزرتا تھا۔ قافلہ مقام سوق النبطہ (نبطی قوم کا بازار) میں ٹھہرا۔ یہاں ایسے بازار میں پہنچے جو سال میں ایک بار لگتا اور سب لوگ اس میں جمع ہوتے۔ قافلے والوں نے خرید و فروخت کی اور آپس میں لین دین ہوئی۔

ایک مقام جو سر بازار واقع تھا۔ اہل قافلہ کی ایک عورت پر نظر پڑی۔ ہاشم نے دیکھا کہ اس عورت کو جو چیز خریدنی ہے ان کے متعلق احکام دے رہی تھی۔ یہ عورت بہت دور کی سوچنے والی مستقل مزاج حسن والی نظر آئی۔

ہاشم نے معلوم کیا، یہ بیوہ ہے یا شوہر والی۔ معلوم ہوا بیوہ ہے، پہلے احیحۃ کے عقد نکاح میں تھی ۔ عمرو اور معبد دو لڑکے بھی اس کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ پھر اس (سلمہ) نے جدا کر دیا ( طلاق دے دی)۔ اپنی قوم میں عزیز و شریف ہونے کی وجہ سے یہ عورت اس وقت تک کسی کے نکاح میں نہ آتی، جب تک یہ شرط طے نہ ہو جاتی کہ اس کی عنان اختیار (ہر چیز کا اختیار) اسی کے ہاتھ میں رہے گا۔ کسی شوہر سے نفرت اور ناپسندیدگی آتی تو اس سے جدا ہو جاتی (یعنی خود اس کو طلاق دے دیتی۔ اس کا نام تھا سلمہ بنت عمرو بن زید بن لبید ابن خداش بن عمر بن غنم بن دعی بن النجار )۔

ہاشم نے اسے پیغام دیا۔ ان کی شرافت اور نسب کا جب حال معلوم ہوا تو فوراَ راضی ہو گئی۔ ہاشم اس کے پاس آئے اور دعوت ولیمہ کی تیاری کی۔ جو وہاں تھے سب کو بلایا۔ تعداد میں یہ چالیس قریشی تھے۔(طبقات ابن سعد، جلد اول)

وہاں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد ہاشم اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے غزہ روانہ ہوتے ہیں ، جہاں وہ بیمار پڑتے ہیں ۔جس کی نتیجہ میں وہ وہیں فوت ہو جاتے ہیں۔ ان کے ساتھی تاجر انہیں غزہ میں ہی دفن کر دیتے ہیں۔ بعد میں سلمہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے جنہیں وہ شیبہ کا نام دیتی ہیں۔ بچہ وہیں ان کے پاس پلتا ہے۔ جب شیبہ (عبدالمطلب) چودہ سال کے ہو جاتے ہیں، تو ان کے چچا مطلب بن عبدالمناف چاہتے ہیں کہ اپنے بھتیجے کو مکہ لے آئیں۔ لیکن سلمہ راستے کی رکاوٹ تھیں۔

ثابت نے کہا: میری رائے میں نہ تو سلمیٰ اسے تیرے سپرد کرے گی اور نہ اس کے ماموں اسے لے جانے دیں گے۔ اگر تو اسے وہیں رہنے دے کہ اپنے ننھیال میں اس وقت تک رہے کہ خود بخود اپنی مرضی سے تمہارے پاس آ جائے تو کیا حرج ہے۔(طبقات ابن سعد، جلد اول)

مطلب بن عبدالمناف اس مسئلے کا حل یوں نکالتے ہیں کہ یثرب جا کر شیبہ کا پتہ چلاتے ہیں اور اسے چوری سے اغوا کر کے مکہ لے آتے ہیں۔

اس کی ماں کو رات ہونے تک اس کے جانے کی اطلاع نہ ہوئی۔ جب رات کو اسے اس کی اطلاع ہوئی۔ اس نے شور مچایا کہ کوئی شخص میرے بچے کو بھگا لے گیا۔ مگر پھر اس کو اطلاع دی گئی کہ اس کا چچا اسے لے گیا ہے۔(الطبری، تاریخ الامم و الملوک، جلد 2)

سلمہ بنت عمرو کا ایک با اختیار عورت کی حیثیت سے آزادانہ طور پر کاروبار کرنا، اپنی مرضی سے شادی کرنا، اپنی مرضی سے خاوند کو چھوڑ دینا، بچے کی ملکیت اپنے پاس رکھنا، نہ صرف مسلمانوں کے قبل از اسلام کی عرب عورت کی بیکسی کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرتا ہےبلکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس قدر آزادی تو آج کی مسلمان عورت کے پاس بھی نہیں ہے۔ سلمہ کی ہی کہانی سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے دعوے کے برعکس ان وقتوں کی عورت اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اس کے مال و جائداد کی مکمل وارث ہوتی تھی۔

قتیلہ بنت نوفل
سیرۃ کی تمام کتابوں میں ایک عورت کا ذکر ہے، جس کا نام قتیلہ بنت نوفل بتایا جاتا ہے۔ وہ عورت کعبہ کے نزدیک رہتی تھی۔ ایک دن جب عبداللہ بن عبدالمطلب اپنے باپ کے ساتھ جا رہے تھے اور اس عورت کے پاس سے گذرے تو اس نے کہا:

اے عبداللہ، کہاں جاتے ہو؟، فرمایا، اپنے والد کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اس نے کہا جتنے اونٹ تمہاری طرف سے ذبح کئے گئے ہیں، اسی قدر میں تمہاری نظر کرتی ہوں، مجھ سے شادی کر لو۔ عبداللہ نے فرمایا، میں اپنے باپ کا مطیع فرمان ہوں، ان کی منشا کے خلاف نہیں کر سکتا“۔(سیرۃ رسول اللہ، ابن اسحاق)

عبدالمطلب نے منت مانی تھی کہ اگر اس کے ہاں دس بیٹے پیدا ہوئے تو وہ ایک بیٹے کی قربانی دیں گے۔ جب آپ کے گھر میں دس بیٹے پیدا ہو کر جوان ہوئے تو آپ نے یہ فیصلہ کرنے کیلئے قرعہ نکالا کہ کس بیٹے کی قربانی دیں۔ یہ قرعہ عبداللہ کے نام نکلا تھا۔ عبداللہ باپ کا لاڈلا تھا اور عبدالمطلب اس کی قربانی نہیں دینا چاہتے تھے۔ لہذا اس نے خیبر کی ایک کاہنہ سے اس کا حل پوچھا۔ جس نے اسے اونٹوں کی قربانی کرنے کیلئے تجویز دی، جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے سو تک پہنچ گئی۔ لہذا عبدالمطب نے سو اونٹوں کی قربانی دے کر عبداللہ کو بچا لیا۔

قتیلہ کے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ کیا وہ بیوہ تھی یا کنواری؟ اور وہ اتنی امیر کیسے ہو گئی کہ اپنے من پسند آدمی سے شادی کیلئے سو اونٹ دینا اسے گھاٹے کا سودا نہیں لگا۔ کیا یہ سب مال و اموال اپنے باپ کے ورثے سے ملا تھا یا اپنے خاوند سے۔لیکن دونوں ہی صورتوں میں وہ مسلمانون کے اس دعوے کو جھٹلا دیتی ہے کہ عورت کو باپ یا شوہر کے مرنے کے بعد ورثے میں سے کچھ نہیں ملتا تھا۔ قتیلہ نے خود اپنی مرضی سے اپنے پسندیدہ مرد عبداللہ سے اپنی شادی کی بات کی، نہ کہ اسے زیادہ بولی دینے والے کے حوالے کیا گیا۔

خدیجہ بنت خویلد

خدیجہ نبی کریم کی پہلی بیوی تھیں۔ آپ ایک قریش کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے کے علاوہ ایک کامیاب اور امیر تاجرہ تھیں۔ آپکی مال و دولت، حسن اور عزت کی وجہ سے آپ کو امیرہ قریش، طاہرہ اور خدیجہ الکبریٰ کہا جاتا تھا۔ آپ کی امارت کا یہ حال تھا کہ جب گرمیوں میں قریش کے کاروانِ تجارت شام اور سردیوں میں یمن کی جانب جایا کرتے تھے، تو آپ اکیلی کا سامان تجارت سے لدا کارواں پورے قبیلۂ قریش کے مجموعی کارواں سے بڑا ہوتا تھا۔ آپ اپنا کاروبار اپنے ملازموں کے ذریعے کرتی تھیں۔ نبی کریم بھی اپنے چچا ابو طالب کی سفارش پر آپ کے قافلے کے ساتھ شام گئے تھے۔

آپ کے مال و دولت اور حسن کی وجہ سے کئی لوگوں نے آپ سے شادی کی خواہش کی لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ لیکن نبی کریم سے شادی کرنے کیلئے آپ نے خود اپنی سہیلی نفیسہ یا بہن کے ذریعے پیغام بھیجا۔ حضرت خدیجہ کے رسول اللہ سے نکاح کے متعلق ابن سعد نے طبقات میں کچھ روایتوں کو جھوٹی روایات کہہ کہ بھی ذکر کیا ہےجن کے مطابق:

روایت نمبر 1: معمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، کہ ابو مجلز نے روایت کی ہے۔ کہ خدیجہؓ نے اپنی بہن سے کہا (محمد ) کے پاس جا کر ان سے میرا تذکرہ کر، یہی الفاظ تھے یااسی قسم کے تھے۔ خدیجہ کی بہن آنحضرت کے پاس آئیں اور جو خدا نے چاہا، آنحضرت نے ان کو جواب دیا۔

ان لوگوں (خدیجہؓ کی طرف کے لوگوں) نے اتفاق کر لیا، کہ رسول اللہ ہی خدیجہ کے ساتھ نکاح کریں۔ خدیجہؓ کے والد کو اتنی شراب پلائی گئی کہ وہ مست ہو گئے۔ پھرمحمد کو بلایا اور خدیجہ کو آپ کے نکاح میں دے دیا۔ بوڑھے کو ایک لباس پہنا دیا، جب وہ ہوش میں آیا تو پوچھاکہ یہ لباس کیسا؟لوگوں نے جواب دیا، یہ تیرے داماد ( محمد ) نے پہنایا ہے۔

بوڑھا بگڑ گیا اور ہتھیاراٹھا لیا، بنی ہاشم نے بھی ہتھیار سنبھال لئے، اور کہا کچھ اس قدر ہم تمہارے خواہشمند نہ تھے۔ اس گہما گہمی کے بعد آخر کار صلح ہو گئی۔

روایت نمبر 2: محمد بن عمر اس سند کے علاوہ دوسری سند سے روایت کرتےہیں۔ کہ خدیجہ نے اپنے والد کو اس قدر شراب پلائی کہ وہ مست ہو گیا۔ گائے ذبح کی، والد کے جسم میں خوشبو لگائی اور مخطط ( دھاری دھار) لباس پہنایا، جب اسے ہوش آیا تو پوچھا : ما ھذا العقیر، و ما ھذا العبیر، و ما ھذا الجبیر ( یہ ذبیحہ کیسا؟ یہ خوشبو کیسی؟، اور یہ دھاری دھار لباس کیسا؟)۔

خدیجہؓ نے جواب دیا تو نے مجھے محمدکے عقد نکاح میں دے دیا ہے ( یہ سب اسی نتیجہ میں ہے) اس نے کہا: میں نے یہ کام نہیں کیا۔ بھلا میں ایسا کام کیوں کروں گا۔جس وقت بزرگان قریش نے تجھے پیغام دیا، میں نے تو اسے اس وقت بھی قبول نہیں کیا تھا (طبقات ابن سعد)۔

 حضرت خدیجہ سے شادی سے پہلے نبی کریم کا کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں تھا۔ آپ محض انکی بکریاں چرایا کرتےتھے۔

ہم (جابرؓ بن عبداللہ) نے عرض کیا، یا رسول اللہ کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے۔ فرمایا، ہاں، اور کوئی ایسا پیغمبر نہیں جس نے نہ چرائی ہوں۔(طبقات ابن سعد، جلد اول، صفحہ 139)

خدیجہ سے شادی کے بعد محمدؐ امیر ہو گئے، اور آپ نے بکریاں چرانا ترک کر دیا۔ (دراسۃ تحلیلیۃ فی شخصیۃ محمد از ذکی امین)

عقیدت کی پٹی ہٹا کر دیکھا جائے تو مندرجہ بالا روایات کی سچائی پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ایک عورت جو انتہائی حسین ، معزز اور امیر تھی کہ قریش مکّہ سے کوئی بھی اس کے ساتھ شادی کرنا باعث فخر سمجھے، اور وہ عورت ایک ایسے شخص جو بکریاں چراتا ہوسے شادی کرنا چاہے، جو خود اپنے چچا کے زیر ِسایہ  پل رہا تھا۔ جس وجہ سے چچا نے بھی اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا، اس آدمی سے اتنی معزز عورت شادی کرنا چاہے تو اُس کے باپ کا طیش میں آنا کوئی عجیب محسوس نہیں ہوتا۔ رسول کریم نے پوری زندگی سوائے حضرت خدیجہ کے قافلے کے ہمراہ جانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ شادی سے پہلے چچا نے اور شادی کے بعد آپ کی کفالت مکمل طور پر حضرت خدیجہ نے کی۔ چنانچہ جب ایک بار حضرت عائشہ نے حضور اکرم کو کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔اس پر آپ نے فرمایا۔: ” بیشک اللہ نے مجھے اس سے اچھی ( بیوی) نہیں دی۔ اس نے مجھے قبول کیا جب لوگوں نے مجھے دھتکارا، وہ مجھ پر ایمان لائی جب لوگوں نے مجھ پر شک کیا۔ اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔، اور اس سے اللہ نے مجھے اولاد عطا فرمائی”۔

حضرت خدیجہ پر  مکمل کفالت کی وجہ  سے آپ نے ان کی زندگی میں دوسری شادی کی  نہیں کی، حالانکہ کثیر الازواجی مکّہ میں ایک عام سی بات تھی۔ لیکن آپ نے حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد کئی اور شادیاں فرمائیں ۔

سلمہ بنت عمر، قتیلہ بنت نوفل اور خدیجہ بنت خویلد کے واقعات مسلمانوں کے قبل از اسلام کی عورت کے متعلق تمام دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ان وقتوں کی عورتیں مردوں کی جائیداد کی وارث بنتی تھیں جیسا کہ سلمہ، قتیلہ اور خدیجہ کے سلسلہ میں ہے۔ عورتیں اپنی مرضی کی شادی کرتی تھیں۔ اور مادر سری نظام کی طرح جب چاہیں مرد کو چھوڑ سکتی تھیں۔ زمانہ قبل از اسلام کی دو دفعہ بیوہ ہو جانے والی خدیجہ اپنے باپ کی مرضی کے خلاف جا کر اپنے سے پندرہ سال چھوٹے محمدؐ کو شادی کا پیغام بھیج سکتی تھی۔ بعد کے زمانہ میں بھی ایک 53 سالہ بوڑھے کی 6 سالہ بچی سے شادی کا تو سنتے ہیں لیکن ایک عورت کی اپنے سے کم عمر مرد سے شادی کی روایت نہیں ملتی۔ آج اکیسویں صدی میں بھی کوئی ایسی مسلمان عورت سامنے نہیں آئی جس میں اتنی جرأت ہو کہ وہ اپنی شادی کا پیغام خود بھیجے، یا مرد کو جب چاہے گھر سے نکال دے۔ اسلام نے اس کے بر عکس شادی کیلئے ولی کا تصور متعارف کرایا ہے۔ ولی جو ایک مرد ہو گا اور وہ عورت کو کسی مرد کے سپرد کرتا ہے۔ نبی کریم نے جب ہند بنت امیہ (ام سلمہ) سے اپنی شادی کی تو امّ المومنین کے بیٹے کو جو ابھی بچہ تھا ، کہا کہ اٹھو اور اپنی ماں کو میرے نکاح میں دو۔

ان وقتوں کی عورت مردوں کو ملازم رکھتی تھی اور ان کی مدد سے آزادانہ طور پر تجارت کیا کرتی تھی۔ جبکہ آج اکیسویں صدی میں بھی کوئی مسلمان بیوہ یا مطلقہ عورت اپنے طور پر آزادانہ بزنس چلانے کا خواب تک نہیں دیکھ سکتی۔ ان عورتوں نے اپنے شوہروں کا مال و دولت ورثے میں پایا جو اسلامی تعلیمات کے تحت ممکن نہیں ہے۔ نبی کریم کی زندگی میں عورتوں کی وراثت کے حوالے سے کچھ یوں ذکر ہے۔

حضرت سعد بن مالک فرماتے ہیں کہ ان کی بیماری کے دنوں میں رسول کریم انکے پاس تشریف لے گئے، تو انہوں نے خدمت نبوی میں عرض کیا، یا رسول اللہ ، میری صرف ایک ہی لڑکی ہے۔ میں تمام مال و دولت کی وصیت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا، نہیں۔ انہوں نے عرض کیا، آدھے مال کی؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ پھر انہوں نے عرض کیا: پھر ایک تہائی مال کی وصیت کر دیتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا، ایک تہائی، حالانکہ وہ بھی زیادہ ہے۔(سنن نسائی، جلد دوم، کتاب الوصیۃ، حدیث نمبر 3668)۔

جاری ہے