Ghazal By Iqbal Sheikh

وہ اپنا کب مجھےاندر کاحال دیتا ہے

میں پوچھتا  ہوں تو باتوں میں ٹال دیتا ہے

خیال میرا خیالوں میں اپنے شامل کر

یہ رشتہ حُسن انہیں لازوال دیتا ہے

 بہت ہی  مختصر ،گہرائی میں لا متناہی

یہ اُن کی باتوں کو اوجِ کمال دیتا ہے

مرے سوالوں پہ خاموشیاں   کیوں ہیں تیری

یہ مخمصہ مجھے چکّر میں ڈال دیتا ہے

محبتوں پہ جو قربان ہوگئےاقباؔل

 زمانہ آج بھی اُن  کی مثال دیتا ہے